یہ آیت ہے یا خزانہ؟
یمن کے شہر صنعاء سے کچھ فاصلے پر ضروان نامی ایک علاقے میں ایک نیک شخص رہتا تھا جس کا بہت بڑا باغ تھا اور جب بھی باغ کا پھل پک جاتا تو وہ کاٹ کر اس میں سے غریبوں کو ضرور حصہ دیتا تھا۔ ایک دن اس کا انتقال ہوگیا اور اس کے بیٹے باغ کے مالک بن گئے۔ بیٹوں نے سوچا کہ ہمارا والد تو بے وقوف تھا کہ باغ کی پیداوار سے غریبوں اور یتیموں کو حصہ دیتا تھا۔ کیوں نہ ہم اس سال غریبوں کو باغ کی زمین کے قریب بھی نہ آنے دیں۔
چنانچہ یہ طے پایا کہ جب باغ میں پھل کاٹنے جائیں گے تو کسی غریب کو وہاں نہیں آنے دیں گے اور صبح کے وقت تیز تیز جائیں گے تاکہ کسی کو پتا نہ چلے۔
صبح کو جب باغ پہنچے تو سارا باغ کسی آسمانی آفت سے تباہ ہو چکا تھا۔ ایک دوسرے کی طرف دیکھ کر کہنے لگے:
لگتا ہے ہم کسی اور جگہ پہنچ گئے ہیں۔ یہاں تو کوئی درخت ہی نظر نہیں آرہا۔
پھر خود ہی کچھ دیر بعد کہا:
نہیں! بلکہ ہم سب لُٹ گئے ہیں اور اب ہم اپنے رب کی تسبیح کرتے ہیں ، یقینا ہم نے غریبوں کو اپنے باغ سے روک کر گناہ اور ظلم کیا ہے۔ ایک دوسرے کی طرف متوجہ ہو کر ایک دوسرے کو ملامت بھی کیا اور یہ بھی کہا:
عَسَى رَبُّنَا أَنْ يُبْدِلَنَا خَيْرًا مِنْهَا (سورت قلم)
ہمیں پوری امید ہے کہ ہمارا رب ہمیں اس (باغ) کے بدلے اس سے بہتر عطا فرمائے گا۔
اس جملے میں ہماری زندگی کےلیے چند اسباق:
1: گناہ کرنا اگرچہ ایک جرم ہے لیکن اس کے بعد اللہ تعالی سے خیر کی امید نہ رکھنا اور مایوس و بدظن ہو جانا کہ ہر روز میں یہ گناہ کرتا ہوں، پتا نہیں اللہ معاف بھی کریں گے یا نہیں، گناہ سے بڑا جرم ہے۔
کبھی بھی آپ کا گناہ، اللہ تعالی سے آپ کے حسن ظن کو نہ توڑ پائے۔ گناہ کے بعد اگر توبہ کر لیتے ہیں تو اللہ تعالی آپ کو پہلے سے زیادہ عطا فرمائیں گے جیسا کہ اس آیت میں ان بھائیوں نے کہا کہ ٹھیک ہے ہم سے گناہ اور ظلم ہوا ہے لیکن امید ہے کہ ہمارا رب پہلے سے بہتر باغ ہمیں دے گا۔ اللہ تعالی کے ساتھ ہمیشہ یہ حسن ظن رکھیں۔
2: اگر آپ کی زندگی سے کوئی قیمتی چیز گم ہو جائے اور آپ کا دل افسوس کی آگ میں جل رہا ہو کہ میرے ساتھ یہ کیا ہوگیا؟ کیسے فلاں چیز میرے ہاتھ سے نکل گئی؟ کیسے میں نے فلاں رشتہ کو کھو دیا؟ کیسے مجھ سے یہ جاب، مال و دولت، مکان یا گاڑی چھوٹ گئی؟ کیسے میرا بزنس Loss کر گیا؟ کیسے مجھ سے میرا موبائل اور پرس چھین لیا گیا؟ کیسے میں نے فلاں قیمتی موقع ضائع کر دیا حالانکہ اگر میں اُس وقت درست فیصلہ لے لیتا تو بہت بہتر ہوتا۔
اللہ تعالی نے اس آیت کے بعد فرمایا کہ متقیوں کےلیے ان کے رب کے پاس نعمتوں سے بھرے باغات ہیں۔ یعنی اگر دنیا میں آپ اپنے باغ سے محروم ہو گئے اور صبر کر گئے تو آخرت میں اس کا بدلہ نعمتوں سے بھرے باغات کی صورت میں ملے گا جو یقینا دنیا کے باغات سے کہیں زیادہ بہتر ہیں کیونکہ دنیا کا باغ عارضی ہے اور آخرت کا دائمی۔
آپ کا باغ کچھ بھی ہو سکتا ہے، مثلا کوئی ادارہ بنایا اور پھلنے پھولنے کے بعد حالات ایسے بنے کہ وہ ادارہ بند کرنا پڑا تو اب گبھرائیے مت، اٹھیں اور دوبارہ کام شروع کر دیں۔کسی پروجیکٹ پر کام شروع کیا، مکمل ہونے کے قریب تھا کہ اسباب نہ رہے، مجبورا کام روکنا پڑا اور کام رُکنے سے وہ پروجیکٹ ختم ہو رہا ہے تو گبھرائیں نہیں، اٹھیں اور پہلے سے بہتر محنت کر کے اپنا پروجیکٹ مکمل کریں۔
کیا آپ نے کبھی درختوں کو نہیں دیکھا کہ اُن پر ایک موسم ایسا بھی آتا ہے جب سارے پتے گر جاتے ہیں لیکن کیا وہ خود بھی گر جاتے ہیں یا کھڑے رہتے ہیں؟ یقینا کھڑے رہتے ہیں اور اچھے موسم کی امید رکھتے ہیں کہ ایک دن آئے گا جب ہم سر سبز و شاداب ہوں گے۔ اسی طرح اگر آپ کی امیدوں کا باغ ختم ہو گیا ہے اور اس کے پتے جھڑ چکے ہیں تو آپ کھڑے رہیں۔ بہار لوٹ کر آئے گی ان شاء اللہ بلکہ پہلے سے زیادہ بہتر لوٹ کر آئے گی اور آپ کی امید پوری ہوگی۔
جب کوئی پروجیکٹ شروع کرو اور اس میں کامیابی نہ ملے تو کہو:
عَسَى رَبُّنَا أَنْ يُبْدِلَنَا خَيْرًا مِنْهَا
پوری امید ہے کہ میرا رب مجھے اس کے بدلے اس سے اچھا عطا فرمائے گا۔
جب چاہو کہ یار یہ کام یوں ہونا چاہیے لیکن وہ یوں نہ ہو پائے تو کہو:
عَسَى رَبُّنَا أَنْ يُبْدِلَنَا خَيْرًا مِنْهَا
پوری امید ہے کہ میرا رب مجھے اس کے بدلے اس سے اچھا عطا فرمائے گا۔
جب کسی کے گھر رشتہ بھیجو اور وہ قبول نہ کرے تو کہو:
عَسَى رَبُّنَا أَنْ يُبْدِلَنَا خَيْرًا مِنْهَا
پوری امید ہے کہ میرا رب مجھے اس کے بدلے اس سے اچھا عطا فرمائے گا۔
جب کسی جگہ کام کرنے کےلیے اپلائی کرو اور وہ آپ کو ہائیر نہ کریں تو کہو:
عَسَى رَبُّنَا أَنْ يُبْدِلَنَا خَيْرًا مِنْهَا
پوری امید ہے کہ میرا رب مجھے اس کے بدلے اس سے اچھا عطا فرمائے گا۔
جب آپ کے دوستوں کو کسی اچھی جگہ پر کوئی بڑا عہدہ مل جائے تو حسد کرنے کے بجائے کہو:
عَسَى رَبُّنَا أَنْ يُبْدِلَنَا خَيْرًا مِنْهَا
پوری امید ہے کہ میرا رب مجھے اس کے بدلے اس سے اچھا عطا فرمائے گا۔
خلاصہ یہ ہے کہ ہر وہ چیز جو آپ کے پاس نہیں ہے، دوسرے کے پاس ہے اور آپ چاہتے ہیں کہ کاش وہ چیز میرے پاس بھی ہوتی تو پھر یہ مت کہو کہ اے اللہ ! یہ چیز مجھے بھی دے دے بلکہ کہو: اے اللہ ! مجھے اس سے بہتر چیز دے دے۔ یہ جملہ کہنے سے آپ کا دھڑکتا دل سکون و قرار پا جائے گا۔ حسد سے بھی بچ جاؤ گے کیونکہ جو اللہ کسی دوسرے کو دینے پر قادر ہے وہ آپ کو اس سے بہتر دینے پر بھی قادر ہے۔

Comments
Post a Comment